The Journey Begins

45005977_769087193445668_429881661748936704_n.jpg

کھویا رہتا ہوں تیری ذات میں مشغول اِتنا،

یہ مصروفیت گر مار ڈالے مجھے تو جانے کیا ہو۔

 

بند رکھا ہے تیری یادوں میں اپنے آپ کو میں نے،

خبر نہیں کچھ کہ باہر کا موسم جانے کیا ہو۔

 

تپتی دوپہر میں بَن کر بِن موسم برسات،

گر جو تو آجائے تو جانے کیا ہو۔

 

تیری ہر ادا، یہ شوخی اور بے جا معصومیت،

میں نہ ہوں اَن پر فِدا تو جانے کیا ہو۔

 

تیرے کِھلتے گلاب سے گالوں پر،

اور سنہری آنکھوں میں آنسو ہوں اگر تو جانے کیا ہو۔

 

تیرے خوبصورت چہرے اور اْن لبوں پر ،

ایک پیاری سی مْسکان نہ ہو تو جانے کیا ہو۔

 

ہر روپ ہی تیرا بے حد حسین ہے،

گر کوئی نیا روپ لے تو جانے کیا ہو۔

 

دفن کر رکھا ہے میں نے سینے میں اپنے،

اَفشاں وہ راز ہوجائے تو جانے کیا ہو۔

 

پیچھے پیچھے پھرتا ہوں تو ہوتی نہیں قدر،

گر جو میں تجھ سے بچھر جاؤں تو جانے کیا ہو۔

 

بڑھ رہے ہیں نخرے تیرے آہستہ آہستہ،

تیرے نخرے اْٹھانے والا گر میں نہ ہوں تو جانے کیا ہو۔

 

خوش بخت اِقبال

 

 

Contact

6 thoughts on “The Journey Begins

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s