Category: Uncategorized
Urdu poetry 3
thankyou for posting my poetry ❤
The Engaged HouseWife's Digest
زندگی اْداس تو نہیں ہے،
مگر مسکرانے کی وجہ بھی ہے نہیں کوئی۔
رہتے رہتے اِس دنیا میں اب ،
دل اْٹھ گیا ہے سب سے میرا۔
مدّتوں سے ہوئی میری جگ میں صبح نہیں،
بیٹھے بیٹھے یْوں میری جگ ہے قصْہ تمام میں۔
میں سوچتی ہوں سحروشام وصل و ہجر،
کیا خوب ہو اگر مداوا دْکھوں کا کردے کوئی۔
ہم برسوں کے اْداس لوگ گر کو جائیں کدھر؟
یہ ہنسی، یہ قہقیں ، یہ بے جا مسکراہٹیں۔
کبھی شیریں و دِلکش، کبھی تلخ و کڑوے،
سمجھ نہیں آتے لوگوں کے لہجے بھی کیسے کیسے۔
رنگینیاں یہ خوبصورت تو نہیں ہیں،
پر طلب آسائشیں سارے جہاں کی کوئی۔
جو میں کہوں اگر تو بدتمیز،
جو چْپ رہوں تو بے ادب کہتے ہیں۔
اْتر رہے ہیں دِل سے سب آہستہ آہستہ،
کہ اْداس روح کو نہیں جچتے یہ نئے دور کے لوگ۔
ساری رونقیں سِمٹ آئیں میری روح کی،
گر جو…
View original post 98 more words
اُردو شاعری- خوش بخت اِقبال
ہر بندہ سنبھل جاتا ہے بُرے وقت کے بعد
مشکل وقتوں میں کسی کا احسان مت لینا
راہ میں بھٹکنے والوں کی رہنمائی تم کرنا
تنہا چھوڑ کر مسافر کی بد دعا مت لینا۔
خوش بخت اِقبال

Urdu Poetry
زندگی اْداس تو نہیں ہے،
مگر مسکرانے کی وجہ بھی ہے نہیں کوئی۔
رہتے رہتے اِس دنیا میں اب ،
دل اْٹھ گیا ہے سب سے میرا۔
مدّتوں سے ہوئی میری جگ میں صبح نہیں،
بیٹھے بیٹھے یْوں میری جگ ہے قصْہ تمام میں۔
میں سوچتی ہوں سحروشام وصل و ہجر،
کیا خوب ہو اگر مداوا دْکھوں کا کردے کوئی۔
ہم برسوں کے اْداس لوگ گر کو جائیں کدھر؟
یہ ہنسی، یہ قہقیں ، یہ بے جا مسکراہٹیں۔
کبھی شیریں و دِلکش، کبھی تلخ و کڑوے،
سمجھ نہیں آتے لوگوں کے لہجے بھی کیسے کیسے۔
رنگینیاں یہ خوبصورت تو نہیں ہیں،
پر طلب آسائشیں سارے جہاں کی کوئی۔
جو میں کہوں اگر تو بدتمیز،
جو چْپ رہوں تو بے ادب کہتے ہیں۔
اْتر رہے ہیں دِل سے سب آہستہ آہستہ،
کہ اْداس روح کو نہیں جچتے یہ نئے دور کے لوگ۔
ساری رونقیں سِمٹ آئیں میری روح کی،
گر جو بہار لوٹ آئے میری کہکشاں میں کوئی۔
خود کو کروں میں اب اور کیا بیاں؟
ہم سادہ ہیں اور سادگی پر ہی مرتے ہیں۔
کرتی نہیں میں شامل خود کو لوگوں میں اْن ،
جو دوسروں کے لیئےجیتے نہیں اور خودغرض بھی خود کو کہتے نہیں۔
ڈھونڈا بہت نگر نگر ہر کْوچہ اور گلی،
میری روح کو مگر نہ مِل سکا تیرے جیسا کوئی۔
چمک لگتی نہیں اچھی اِس دنیا کی،
اور اپنی خواہشیں ہیں عروجوں پر۔
جانتے ہوئے کہ سب چھوڑ جانا ہے خالی ہاتھ،
ایک دن مجھے صرف ایک اْداس روح کے ساتھ۔
خوش بخت اِقبال

The Journey Begins

کھویا رہتا ہوں تیری ذات میں مشغول اِتنا،
یہ مصروفیت گر مار ڈالے مجھے تو جانے کیا ہو۔
بند رکھا ہے تیری یادوں میں اپنے آپ کو میں نے،
خبر نہیں کچھ کہ باہر کا موسم جانے کیا ہو۔
تپتی دوپہر میں بَن کر بِن موسم برسات،
گر جو تو آجائے تو جانے کیا ہو۔
تیری ہر ادا، یہ شوخی اور بے جا معصومیت،
میں نہ ہوں اَن پر فِدا تو جانے کیا ہو۔
تیرے کِھلتے گلاب سے گالوں پر،
اور سنہری آنکھوں میں آنسو ہوں اگر تو جانے کیا ہو۔
تیرے خوبصورت چہرے اور اْن لبوں پر ،
ایک پیاری سی مْسکان نہ ہو تو جانے کیا ہو۔
ہر روپ ہی تیرا بے حد حسین ہے،
گر کوئی نیا روپ لے تو جانے کیا ہو۔
دفن کر رکھا ہے میں نے سینے میں اپنے،
اَفشاں وہ راز ہوجائے تو جانے کیا ہو۔
پیچھے پیچھے پھرتا ہوں تو ہوتی نہیں قدر،
گر جو میں تجھ سے بچھر جاؤں تو جانے کیا ہو۔
بڑھ رہے ہیں نخرے تیرے آہستہ آہستہ،
تیرے نخرے اْٹھانے والا گر میں نہ ہوں تو جانے کیا ہو۔
خوش بخت اِقبال